موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّدَقَاتِ (بَابُ مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ)
حکم : صحیح
2415 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ صَلَّى عَلَيْهِ وَإِنْ قَالُوا لَا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفُتُوحَ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل
باب: جوشخص قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو ( ادائیگی یا نگہداشت ) اللہ اور اس کے رسول کےذمے ہے
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2415. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں جب کوئی مومن مقروض ہو کر فوت ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اس کے بارے میں پوچھتے اور فرماتے: کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کا سامان چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے : ہاں توآپ اس کا جنازہ پڑھاتے اور اگر لوگ کہتے: نہیں تو آپ فرماتے: اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو فتوحات (اور غنیمتیں) عطا فرمائیں تو آپ نے فرمایا: میں مومنوں سے ان کی جانوں سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں، اس لیے جو کوئی مقروض فوت ہو گا تو اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو کوئی مال چھوڑ کر فوت ہو جائے گا تو وہ مال اس کے وارثوں کا ہے۔