قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الرُّهُونِ (بَابُ مَايُكْرَهُ مِنَ الْمُزَارَعَةِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2459 .   حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا رَافِقًا فَقُلْتُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ قُلْنَا نُؤَاجِرُهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالْأَوْسُقِ مِنْ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ فَقَالَ فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: رہن ( گروی رکھی ہوئی چیز) سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: ناپسندیدہ مزارعت کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2459.   حضرت ابو نجاشی (عطا بن صہیب انصاری رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت ہے، انہوں نے حضرت رافع بن خدیج ؓ کو اپنے چچا حضرت ظہیر (بن رافع بن عدی انصاری ؓ) سے روایت کرتے سنا کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جس میں ہمارے لیے آسانی تھی۔ میں نے کہا: جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، وہی درست ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے کھیتوں کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ ہم نے کہا: ہم انہیں (پیداوار کے) تیسرے حصے یا چوتھے حصے کے عوض یا گندم اور جو کے چند وسق (مقررہ مقدار) کے عوض کرائے پر دی دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو، خود کاشت کرو یا کسی کو کاشت کے لیے دے دو۔