قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْحُدُودِ (بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2610 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا وَأَبَا بَكْرَةَ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرنا ‘ یا اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کسی اور کو مولیٰ ( آزاد کرنے والا) قرار دینا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2610.   حضرت سعد اور حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک نے فرمایا: میرے کانوں نے حضرت محمد ﷺ سے یہ ارشاد مبارک سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: جو شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے، اس پر جنت حرام ہے۔