قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ عَقْلِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَصَبَتِهَا وَمِيرَاثِهَا لِوَلَدِهَا)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

2647 .   حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعْقِلَ الْمَرْأَةَ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا وَلَا يَرِثُوا مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا فَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: عورت کی دیت اس کے عصبہ کے ذمے ہے اور اس کا ترکہ اس کی اولاد کے لیے ہے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2647.   عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ عورت کی دیت اس کے عصبہ رشتے دار ادا کریں گے، وہ جو بھی ہوں۔ اور انہیں دیت میں سے ترکے کے طور پر کچھ نہیں ملے گا مگر وہی جو اس کے (اصحاب الفروض) وارثوں سے بچ جائے۔ اور اگر عورت قتل ہو جائے تو اس کی دیت اس کے وارثوں کے درمیان ( ترکے کے طور پر) تقسیم ہوگی ۔ وہی عورت کے قاتل کو قتل کر سکتے ہیں۔