قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ لَا يَجْنِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2670 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ يَقُولُ أَلَا لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ أَلَا لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: کوئی کسی کےجرم کاذمےدارنہیں

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2670.   طارق محاربی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ بلند فرمائے حتی کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آئی۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’سنو! کسی ماں کے جرم کی ذمے داری اس کے بیٹے پر نہیں۔ سنو! کسی ماں کے جرم کی ذمے داری اس کے بیٹے پر نہیں۔‘‘