قسم الحديث (القائل): قدسی ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

2710 .   حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَنْبَأَنَا مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ آدَمَ اثْنَتَانِ لَمْ تَكُنْ لَكَ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا جَعَلْتُ لَكَ نَصِيبًا مِنْ مَالِكَ حِينَ أَخَذْتُ بِكَظَمِكَ لِأُطَهِّرَكَ بِهِ وَأُزَكِّيَكَ وَصَلَاةُ عِبَادِي عَلَيْكَ بَعْدَ انْقِضَاءِ أَجَلِكَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: تہائی ترکےکی وصیت

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2710.   حضرت عبداللہ عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) اے آدم کے بیٹے! دو چیزیں (میں نے تجھے دی ہیں) ان میں سے ایک بھی تیرے ہاتھ میں نہیں تھی۔ میں نے تیرے مال میں اس وقت تیرا حصہ مقرر کر دیا جب میں تیری سانس بند کرتا ہوں۔ (یہ اس لیے) تاکہ تجھے پاک صاف کر دوں اور (دوسری چیز) تیری زندگی کے ختم ہو جانے کے بعد میرے بندوں کا تجھ پر نماز جنازہ ادا کرنا۔‘‘