مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 4
کل صفحات: 1 - کل احادیث: 4
1 جامع الترمذي أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَثِّ عَلَى الْوَصِيَّةِ
حکم: صحیح
2118 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَا يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ...
جامع ترمذی:
كتاب: وصیت کے احکام ومسائل
مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)
2118. عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کو یہ اس بات کا حق نہیں کہ وہ دو راتیں ایسی حالت میں گزارے کہ وہ کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو اور اس کے پاس وصیت تحریری شکل میں موجو د نہ ہو‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ یہ حدیث ’’عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، عن النبي ﷺ‘‘ کی سند سے اسی طرح مروی ہے۔...
2 سنن ابن ماجه كِتَابُ الْوَصَايَا بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْوَصِيَّةِ
حکم: ضعیف
2701 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ عَلَى وَصِيَّةٍ مَاتَ عَلَى سَبِيلٍ وَسُنَّةٍ وَمَاتَ عَلَى تُقًى وَشَهَادَةٍ وَمَاتَ مَغْفُورًا لَهُ...
سنن ابن ماجہ:
کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل
مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)
2701. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص وصیت کر کے فوت ہوا، وہ سیدھی راہ پر اور سنت طریقے پر (عمل کرتا ہوا) فوت ہوا۔ وہ تقوی اور شہادت کی موت مرا۔ اور اس حال میں مرا کہ اس کی بخشش ہو چکی تھی۔‘‘
3 سنن ابن ماجه كِتَابُ الْوَصَايَا بَاب الْحَيْفِ فِي الْوَصِيَّةِ
حکم: ضعیف
2705 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ أَبِي خُلَيْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَأَوْصَى وَكَانَتْ وَصِيَّتُهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا تَرَكَ مِنْ زَكَاتِهِ فِي حَيَاتِهِ...
سنن ابن ماجہ:
کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل
مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)
2705. حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد (قرہ بن ایاس بن ہلال مزنی ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے وصیت کی اور اس کی وصیت اللہ کی کتاب کے مطابق تھی، اس کا یہ عمل اس کی زندگی میں ترک شدہ زکاة کا کفارہ بن جائے گا۔‘‘
4 سنن ابن ماجه كِتَابُ الْوَصَايَا بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ
حکم: ضعیف
2710 حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَنْبَأَنَا مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ آدَمَ اثْنَتَانِ لَمْ تَكُنْ لَكَ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا جَعَلْتُ لَكَ نَصِيبًا مِنْ مَالِكَ حِينَ أَخَذْتُ بِكَظَمِكَ لِأُطَهِّرَكَ بِهِ وَأُزَكِّيَكَ وَصَلَاةُ عِبَادِي عَلَيْكَ بَعْدَ انْقِضَاءِ أَجَلِكَ...
سنن ابن ماجہ:
کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل
مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)
2710. حضرت عبداللہ عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) اے آدم کے بیٹے! دو چیزیں (میں نے تجھے دی ہیں) ان میں سے ایک بھی تیرے ہاتھ میں نہیں تھی۔ میں نے تیرے مال میں اس وقت تیرا حصہ مقرر کر دیا جب میں تیری سانس بند کرتا ہوں۔ (یہ اس لیے) تاکہ تجھے پاک صاف کر دوں اور (دوسری چیز) تیری زندگی کے ختم ہو جانے کے بعد میرے بندوں کا تجھ پر نماز جنازہ ادا کرنا۔‘‘...
مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 4
کل صفحات: 1 - کل احادیث: 4