قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يُوصِ هَلْ يُتَصَدَّقُ عَنْهُ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2716 .   حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: جوشخص وصیت کیےبغیرفوت ہوجائےکیااسکی طرف سےصدقہ کیاجاسکتاہے؟

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2716.   حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: میرا والد فوت ہوگیا ہے اور اس نے مال چھوڑا ہے، لیکن وصیت نہیں کی۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘