موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفَرَائِضِ (بَابُ فَرَائِضِ الصُّلْبِ)
حکم : صحیح
2721 . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ عَنْ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ الْبَاهِلِيِّ فَسَأَلَهُمَا عَنْ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ فَقَالَا لِلِابْنَةِ النِّصْفُ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ وَائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنَا فَأَتَى الرَّجُلُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ وَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُهْتَدِينَ وَلَكِنِّي سَأَقْضِي بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: وراثت سے متعلق احکام ومسائل
باب:(ترکےمیں)صلبی اولادکےحصے
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2721. حضرت ہزیل بن شرحبیل ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے ابو موسیٰ اشعری ؓ اور سلمان بن ربیعہ باہلی ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے بیٹی، پوتی اور سگی بہن (کی وراثت) کا مسئلہ دریافت کیا۔ ان دونوں نے فرمایا: بیٹی کے لیے نصف ہے اور جو باقی بچے وہ بہن کا ہے۔ اور (سائل سے) کہا: عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس جاؤ، وہ بھی ہماری تائید کریں گے۔ اس آدمی نے عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ پوچھا اور ان دونوں حضرات کی بات بھی بتائی تو عبداللہ ؓ نے فرمایا: (اگر میں یہی فتوی دوں) تب تو میں گمراہ ہو جاؤں گا اور ہدایت یافتہ نہیں ہوں گا۔ لیکن میں وہ فیصلہ کروں گا، جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ بیٹی کے لیے نصف ہے اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ جس سے (دونوں کا) کل حصہ دو تہائی ہو جائے اور جو باقی بچے وہ بہن کا ہے۔