قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجِهَادِ (بَابُ التَّحْرِيقِ، بِأَرْضِ الْعَدُوِّ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2844 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً(الحشر:5) الْآيَةَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: دشمن کے علا قے میں ( درختو ں اور مکانوں وغیرہ کو ) آگ لگا نا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2844.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے (یہودیوں کے قبیلے) بنو نضیر کے کھجوروں کے کےجلا دیا اور کاٹ دیا۔ یہ مقام (جہاں کھجوروں کے یہ باغ واقع تھے) بویرہ کہلاتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نےیہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَ‌كْتُمُوهَا قَائِمَةً﴾ ’’تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر باقی رہنے دیا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمان سے تھا اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے۔