موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ فَسْخِ الْحَجِّ)
حکم : صحیح
2980 . حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَا نَخْلِطُهُ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى النِّسَاءِ فَقُلْنَا مَا بَيْنَنَا لَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ فَنَخْرُجُ إِلَيْهَا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَصْدَقُكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَمُتْعَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ فَقَالَ لَا بَلْ لِأَبَدِ الْأَبَدِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: حج کی نیت فسخ( کر کے عمرے کی نیت )کرنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2980. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہےانھوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ محض حج کی نیت سے (احرام باندھ کر) لبیک پکارا ہمارا ارادہ اس کے ساتھ عمرہ ملانے کا نہ تھا چنا چہ ہم ذوالحجہ کی چار راتیں گزرنے پر (چار تازیخ کو) مکہ پہنچے۔ جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر کے صفا ومروہ کی سعی کر لی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس (طواف اور سعی) کو عمرہ بنا دیں اور (احرام کھول کر) عورتوں سے خلوت کریں۔ ہم نے آپس میں کہا: عرفہ جانے میں صرف پا نچ راتیں باقی ہیں۔ تو کیا اس حال میں عرفہ جائیں گے کہ ہمارے مخصوص اعضاء سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں؟ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم سب سے بڑھ کر نیک اور سچا ہوں۔ اگر (میرے ساتھ ) قربانی نے جانور نہ ہوتے تو میں بھی احرام کھول دیتا ۔ حضرت سراقہ بن مالک ؓ نے فرمایا: کیا یہ تمتع (کی اجازت) صرف اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے‘‘