موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ)
حکم : صحیح
2986 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَطَّوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَتْ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فوائد و مسائل: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي نَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَهَا اللَّهُ فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: صفا اور مروہ کے درمیا ن سعی کرنے کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2986. حضرت عروہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میں نے حضرت عائشہ ؓسے کہا: میں اس بات کو گنا ہ نہیں سمجھتا کہ صفا اور مروہ کے درمیان چکر نہ لگا ؤں۔ حضرت عا ئشہ ؓ نےفرمایا: اللہ تعا لیٰ (تو یہ) فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ ’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اس لیے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرنے والے پر ان کا چکر لگا نا ( سعی کرنے ) میں کو ئی حرج نہیں۔‘‘ اگر وہ با ت درست ہوتی جو کہتے ہو تو (اللہ کاارشا د) اس طرح ہوتا: (فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَن یَّطَّوَّفَ بِه) ’’ان کا چکر نہ لگا نے میں کوئی حرج ہے۔‘‘ یہ آیت تو انصا ر کے بعض لوگوں کے با رے میں نا زل ہوئی ہے۔ وہ جب لبیک پکارتے تھے تو مناۃ (بت ) کے نا م سے لبیک پکا رتے تھے پھر (ان کے خیا ل میں) صفا اور مروہ کے د رمیان سعی کرنا ان کے لئے جائز نہیں ہوتا تھا۔ جب وہ نبی ﷺ کے ساتھ حج کے لئے (مکہ تشریف) آئے تو انھوں نے یہ بات رسو ل اللہ ﷺ سے عرض کی تب اللہ تعا لیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ میری عمر کی قسم! اللہ اس شخص کا حج مکمل تسلیم نہیں کرتا جو صفا اور مروہ کے درمیا ن چکر نہ لگائے۔