موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الْعُمْرَةِ مِنَ التَّنْعِيمِ)
حکم : صحیح
3000 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ نُوَافِي هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ قَالَتْ فَكَانَ مِنْ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ قَالَتْ فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَحْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: تنعیم سے (احرام باند ھ کے ) عمرہ کرنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3000. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ہم لوگ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺکے ساتھ (مدینہ سے) روانہ ہوئے اور ذوالحجہ کا چاند چڑھنے ہی والا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھنا چاہے باندھ لے۔اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں بھی عمرے کی نیت سے لبیک پکارتا۔‘‘ ام المؤمنین ؓ نے فرمایا: تو لوگوں میں سےکسی نے عمرے کا احرام باندھا، اور کسی نے حج کا احرام باندھا۔ میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں شامل تھی۔ انھوں نے فرمایا: ہم لوگ روانہ ہوئے حتی ٰ کہ مکہ شریف پہنچ گئے۔ ابھی میں حیض سے تھی کہ عرفہ کا دن آ پہنچا۔ اور میں نے ابھی عمرے کا احرام نہیں کھولا تھا ۔میں نے نبیﷺ سے صورت حال عرض کی تو آ پﷺ نے فرمایا: ’’اپنا عمرہ رہنے دو، سر کے بال کھول کر کنگھی کر لو، اور حج کا احرام باندھ لو۔‘‘ انھوں نے فرمایا: میں نے ایسے ہی کیا۔ جب حصبہ کی رات آئی اور اللہ تعا لیٰ نے ہمارا حج مکمل کر دیا تو رسول اللہ ﷺنے میرے ساتھ عبدالرحمان بن ابی بکر ؓ کو بھیجا۔ وہ مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر تنعیم لے گئے۔ (اور میں نے وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا۔) چنانچہ میں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج اور عمرہ دونوں پورے کر دیے اور اس میں نہ قربانی تھی،نہ صدقہ اور نہ روزے۔