قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الْوُقُوفِ بِجَمْعٍ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3022 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نُفِيضَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، قَالَ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا يَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ، كَيْمَا نُغِيرُ، وَكَانُوا لَا يُفِيضُونَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَخَالَفَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: مزدلفہ میں ٹھہرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3022.   حضرت عمرو بن میمون ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے ہمراہ حج کیا۔ جب ہم مزدلفہ سےواپس ہونے لگے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا: مشرکین کہا کرتے تھے: اے ثبیر پہاڑ! روشن ہو جا تاکہ ہم (واپس منیٰ کی طرف) بھاگیں۔ وہ اس وقت تک واپس نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہوجا تا۔ رسول اللہﷺ نے ان کے خلاف عمل کیا کہ سورج طلوع ہونےسے پہلے واپس چل دیے۔