موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ مِنْ أَيْنَ تُرْمَى جَمْرَةُ الْعَقَبَةِ)
حکم : صحیح
3030 . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، وَاسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ، وَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَالَ: «مِنْ هَاهُنَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: بڑے جمرے پر کنکریاں کہاں کھڑے ہوکر ماری جائیں؟
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3030. حضرت عبدالرحمان بن یزید ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ جب جمرۂ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے نشیبی حصے میں چلے گئے، کعبہ کی طرف منہ کیا، جمرے کو اپنے دائیں ابروکے مقابل رکھا اور سات کنکریاں ماریں۔ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے، پھر فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی جگہ کھڑے ہو کر کنکریاں ماری تھیں اس شخصیت نے جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔