موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ مَالِ الْكَعْبَةِ)
حکم : صحیح
3116 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: بَعَثَ رَجُلٌ مَعِيَ بِدَرَاهِمَ هَدِيَّةً إِلَى الْبَيْتِ، قَالَ: فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ وَشَيْبَةُ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ، فَنَاوَلْتُهُ إِيَّاهَا، فَقَالَ: أَلَكَ هَذِهِ؟ قُلْتُ: لَا، وَلَوْ كَانَتْ لِي، لَمْ آتِكَ بِهَا، قَالَ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، لَقَدْ جَلَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَكَ الَّذِي جَلَسْتَ فِيهِ، فَقَالَ: «لَا أَخْرُجُ، حَتَّى أَقْسِمَ مَالَ الْكَعْبَةِ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ» قُلْتُ: مَا أَنْتَ فَاعِلٌ، قَالَ: لَأَفْعَلَنَّ، قَالَ: وَلِمَ ذَاكَ؟ قُلْتُ: «لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَأَى مَكَانَهُ، وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا أَحْوَجُ مِنْكَ إِلَى الْمَالِ، فَلَمْ يُحَرِّكَاهُ، فَقَامَ كَمَا هُوَ، فَخَرَجَ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: کعبہ کے مال کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3116. حضرت شفیق ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص نے بیت اللہ کو ہدیہ کرنے کے لیے میرے ہاتھ کچھ درہم بھیجے۔ میں کعبہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت شیبہ کرسی پر بیٹھے تھے۔ میں نے انہیں وہ درہم دے دیے۔ انہوں نے کہا: یہ تمہارے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، اگر میرے ہوتے تو میں آپ کے پاس نہ لاتا۔ انہوں نےکہا: تم نے یہ بات کہی ہے (تو مجھے بھی ایک بات یاد آگئی) حضرت عمر بن خطاب (ایک دن) اسی جگہ بیٹھے تھے جہاں تم اب بیٹھے ہو، انہوں نے فرمایا: میں (کعبہ سے) باہر نہیں جاؤں گا جب تک کعبے کا مال نکال کر غریب مسلمانوں میں تقسیم نہ کردوں۔ میں نے کہا: آپ یہ کام نہیں کرسکتے۔ انہوں نے فرمایا: میں یہ کام ضرور کروں گا۔ لیکن تم نے یہ بات کیوں کہی ہے؟ میں نےکہا: اس لیے کہ نبی ﷺ اور حضرت ابو بکر نے یہ مال یہاں دیکھا تھا او ران کو اس مال کی آپ سےزیادہ ضرورت تھی،ان دونوں نے تو اسے ہلایا بھی نہیں۔ حضرت عمر اسی طرح کھڑے ہوگے اور (کعبے سے) باہرتشریف لے گئے۔