قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: تقریری

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ (بَابُ مَنْ ضَحَّى بِشَاةٍ عَنْ أَهْلِهِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3147 .   حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ: كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا فِيكُمْ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «كَانَ الرَّجُلُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ، ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ، فَصَارَ كَمَا تَرَى»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: قربانی سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کو قربانی کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3147.   حضرت عطاء بن یسار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت ابو ایوب انصاری سے سوال کیا: رسول اللہ ﷺ کےزمانہ مبارک میں تم لوگوں میں قربانیاں کس طرح کی ہوتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ کےزمانہ مبارک میں آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سےایک بکر ی کی قربانی کردیا کرتا تھا ۔ (اس میں سے ) وہ خود بھی کھاتے، اور دوسروں کو بھی کھلاتے۔ بعد میں لوگ فخر (کے طور پر زیادہ جانور ذبح ) کرنے لگے تو وہ حال ہوگیا جو آپ (آج کل) دیکھ رہے ہیں۔