قسم الحديث (القائل): مقطوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّيْدِ (بَابُ صَيْدِ الْكَلْبِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3208 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ ابْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ، بِهَذِهِ الْكِلَابِ قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا، فَكُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، إِنْ قَتَلْنَ، إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ، فَإِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ، عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ أُخَرُ، فَلَا تَأْكُلْ» قَالَ ابْنُ مَاجَةَ سَمِعْتُهُ، يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ الْمُنْذِرِ يَقُولُ: حَجَجْتُ ثَمَانِيَةً وَخَمْسِينَ حِجَّةً، أَكْثَرُهَا رَاجِلٌ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: شکار کے احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: کتے کا کیا ہوا شکار

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3208.   حضرت عدی بن حاتم طائی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا اور کہا: ہم لوگ ان کتوں کے ذریعے سے شکار کرتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑے اور ان پر اللہ کا نام لے تو اگر وہ (شکار کو) قتل کر دیں تو جس (شکار کیے ہوئے جانور) کو وہ تمہارے لیے بچا رکھیں، اسے تو کھا سکتا ہے، سوائے اس کے کہ کتے نے (اس میں سے کچھ ) کھایا ہو۔ اگر کتے نے کھایا ہو، تب تو نہ کھا کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ اس نے اپنے لیے پکڑا ہوگا۔ اور اگر اس کے ساتھ دوسرے کتے بھی شریک ہوں تو پھر تو نہ کھا۔‘‘ امام ابن ماجہ  رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد علی بن منذر سے سنا، انہوں نے فرمایا: میں نے اٹھاون حج کیے ہیں جن میں سے اکثر میں پیدل سفر کیا ہے۔