موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابُ اللُّقْمَةِ إِذَا سَقَطَتْ)
حکم : ضعیف الإسناد
3278 . حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَتَغَدَّى، إِذْ سَقَطَتْ مِنْهُ لُقْمَةٌ، فَتَنَاوَلَهَا، فَأَمَاطَ، مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى، فَأَكَلَهَا، فَتَغَامَزَ بِهِ الدَّهَاقِينُ، فَقِيلَ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، إِنَّ هَؤُلَاءِ الدَّهَاقِينَ يَتَغَامَزُونَ، مِنْ أَخْذِكَ اللُّقْمَةَ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ هَذَا الطَّعَامُ، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ، مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِهَذِهِ الْأَعَاجِمِ «إِنَّا كُنَّا يُؤْمَرُ أَحَدُنَا، إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَتُهُ، أَنْ يَأْخُذَهَا، فَيُمِيطَ، مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى وَيَأْكُلَهَا، وَلَا يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل
باب: اگر لقمہ ہاتھ سے گر جائے تو کیا کرے ؟
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3278. حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے، وہ کھانا کھا رہے تھے کہ اتنے میں ان (کے ہاتھ) سے ایک لقمہ گر گیا۔ انہوں نے اسے اٹھایا اور اسے جو گرد و غبار وغیرہ لگ گیا تھا، اسے دور کیا، پھر وہ لقمہ کھا لیا۔ زمینداروں نے ایک دوسرے کو اشارے کیے (کہ دیکھیں یہ کیا کر رہے ہیں) انہیں کہا گیا: اللہ تعالیٰ گورنر صاحب (آپ) کو درست رکھے، آپ کے لقمہ اٹھانے کی وجہ سے زمیندار ایک دوسرے کو اشارے کرتے ہیں جب کہ آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہے (پھر گرا ہو ا لقمہ نہ اٹھاتے تو کیا حرج تھا، خواہ مخواہ ان لوگوں کے مذاق کا نشانہ بنے) انہوں نے فرمایا: میں عجمیوں کی وجہ سے رسول اللہﷺ سے سنی ہوئی حدیث پر عمل کرنا ترک نہیں کر سکتا۔ ہم تو، جب کسی کا لقمہ گر پڑتا تھا، اسے حکم دیا کرتے تھے کہ اسے اٹھا کر اس پر لگی ہوئی چیز (تنکا، غبار وغیرہ) دور کرے اور اسے کھالے، اور اسے شیطان کے لیے نہ رہنے دے۔