موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابُ الدُّبَّاءِ)
حکم : صحیح
3303 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ، بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَجِدْهُ، وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ، دَعَاهُ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ، قَالَ: فَدَعَانِي لِآكُلَ مَعَهُ، قَالَ: وَصَنَعَ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ، قَالَ: «فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ، فَأُدْنِيهِ مِنْهُ، فَلَمَّا طَعِمْنَا مِنْهُ، رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل
باب: کدو کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3303. حضر ت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میری والدہ ام سلیم ؓ نے میرے ہاتھ کھجوروں کا ایک ٹوکرا رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ آپﷺ مجھے( گھر میں) نہ ملے۔ آپﷺ قریب ہی اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے ہاں تشریف لے گئے تھے۔ اس نے آپﷺ کو دعوت دی تھی اور نبیﷺ کے لیے کھانا تیار کیا تھا۔ میں حاضر خدمت ہوا تو آپﷺ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ آپﷺ نے مجھے اپنے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دی۔ ان صاحب نے کدو اور گوشت ڈال کر ثرید بنا رکھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ نبیﷺکو کدو اچھا لگتا ہے تو میں اس (کدو) کے ٹکڑے (برتن کے اطراف میں سے) جمع کر کے آپﷺ کے قریب کرنے لگا۔ جب ہم لوگوں نے کہانا کھا لیا تو آپﷺ واپس گھر تشریف لے گئے۔ میں نے (کھجوروں کا) ٹوکرا آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپﷺ نے کھجوریں کھانا اور تقسیم کرنا شروع کر دیں حتیٰ کہ ختم کر کے فارغ ہو گئے۔