موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابُ الِائْتِدَامِ بِالْخَلِّ)
حکم : موضوع
3318 . حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَعْدٍ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ، وَأَنَا عِنْدَهَا، فَقَالَ: «هَلْ مِنْ غَدَاءٍ؟» قَالَتْ: عِنْدَنَا خُبْزٌ، وَتَمْرٌ، وَخَلٌّ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْخَلِّ، فَإِنَّهُ كَانَ إِدَامَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي، وَلَمْ يَفْتَقِرْ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل
باب: سر کے کا سالن کے طور پر استعمال
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3318. حضرت ام سعد(جمیلہ بنت سعد بن ربیع انصاریہ)ؓا سے روایت ہے‘انھوں نے فرمایا:رسول اللہﷺ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے ہاں تشریف لائے جبکہ میں بھی ان کے پاس تھی۔آپ نے فرمایا:’’کوئی کھانا ہے؟‘‘ام المؤمنین نے فرمایا:ہمارے پاس روٹی ‘کھجوریں اور سرکہ ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’سرکہ اچھا سالن ہے۔ اے اللہ!سرکے میں برکت عطا فرما۔یہ مجھ سے پہلے انبیا کا سالن تھا۔جس گھر میں سرکہ ہو وہ غریب نہیں۔‘‘