موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابُ مَا عَوَّذَ بِهِ النَّبِيُّ ﷺ وَمَا عُوِّذَ بِهِ)
حکم : صحیح
3520 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ فَدَعَا لَهُ قَالَ: «أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ، إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل
باب: نبیﷺ نے جو دم کیا اور جو دم آپؐ کو کیا گیا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3520. حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی بیمار کے پاس تشریف لے جاتے اور اس کے لیے دعا کرتے تو فرماتے، (أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا) ’’بیماری دور کردے، اے لوگوں کےرب! اور شفا عطا فرما۔ تو ہی شفا دینے والاہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا دے کہ بیماری کو بالکل نہ رہنے دے۔‘‘