موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: منقطع ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابُ تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ)
حکم : صحیح
3530 . حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ أُخْتِ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ قَالَتْ: كَانَتْ عَجُوزٌ تَدْخُلُ عَلَيْنَا تَرْقِي مِنَ الْحُمْرَةِ، وَكَانَ لَنَا سَرِيرٌ طَوِيلُ الْقَوَائِمِ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ تَنَحْنَحَ وَصَوَّتَ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَلَمَّا سَمِعَتْ صَوْتَهُ احْتَجَبَتْ مِنْهُ، فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِي فَمَسَّنِي فَوَجَدَ مَسَّ خَيْطٍ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: رُقًى لِي فِيهِ مِنَ الْحُمْرَةِ فَجَذَبَهُ وَقَطَعَهُ فَرَمَى بِهِ وَقَالَ: لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللَّهِ أَغْنِيَاءَ عَنِ الشِّرْكِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرُّقَى، وَالتَّمَائِمَ، وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ» ، قُلْتُ: فَإِنِّي خَرَجْتُ يَوْمًا فَأَبْصَرَنِي فُلَانٌ، فَدَمَعَتْ عَيْنِي الَّتِي تَلِيهِ، فَإِذَا رَقَيْتُهَا سَكَنَتْ دَمْعَتُهَا، وَإِذَا تَرَكْتُهَا دَمَعَتْ، قَالَ: ذَاكِ الشَّيْطَانُ، إِذَا أَطَعْتِهِ تَرَكَكِ، وَإِذَا عَصَيْتِهِ طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي عَيْنِكِ، وَلَكِنْ لَوْ فَعَلْتِ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَيْرًا لَكِ، وَأَجْدَرَ أَنْ تُشْفَيْنَ تَنْضَحِينَ فِي عَيْنِكِ الْمَاءَ وَتَقُولِينَ: «أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل
باب: تعویذ وغیرہ ڈالنا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3530. حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ حضرت زینت (بنت معاویہ ثقفیہ )ؓ سےروایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمارے ہاں ایک بڑھیا آیا کرتی تھی۔ وہ سرخ باد کا دم کیاکرتی تھی۔ اورہمارےپاس لمبے پایوں والی ایک چار پائی تھی۔ حضرت عبداللہ جب گھر میں داخل ہوتے تو (پہلے) کھانستے اور آواز دیتے (پھر اندر داخل ہوتے) ایک دن وہ تشریف لائے۔ جب اس (بڑھیا) نے ان کی آوازسنی تو ان سے پردہ کرلیا۔ وہ آ کر میرے پاس بیٹھ گئے۔ انہوں نےمجھےہاتھ لگایا تو انہیں دھاگا محسوس ہوا (جو میں نے گلے میں ڈالا ہوا تھا۔) انہوں نےکہا: یہ کیا ہے؟ میں نےکہا، اس میں مجھےسرخ بام کا دم کرکے دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے کھینچ لیا اور توڑ کر پھینک دیا۔ اور فرمایا: عبداللہ کے گھر والوں کو شرک کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپﷺ فرمارہے تھے: ’’دم جھاڑ، تعوذ اور حب کا عمل (یہ سب ) شرک ہیں۔‘‘ میں نے کہا: میں ایک دن (گھر سے) نکلی تو فلان شخص نے مجھےدیکھ لیا۔ میری جو آنکھ اس کی طرف تھی،اس سے پانی بہنے لگا۔ جب میں دم کرواتی تو پانی رک جاتا، جب میں (دم کرائےبغیر) چھوڑ دیتی تو اس سے پانی بہنےلگتا۔ انہوں نے کا: وہ شیطان تھا،جب تو اس کی مرضی کا کام کرتی تھی، وہ تجھے چھوڑ دیتا، جب اس کی مرضی کے خلاف کرتی، وہ تیری آنکھ میں انگلی ماردیتا۔ لیکن اگر تو وہ کام کرتی جو اللہ کےرسول ﷺ نے کیا تھا توتیرے لیے بہتر ہوتا اور تجھے ضرور شفا مل جاتی۔ تو اپنی آنکھ پر پانی کےچھینٹے مار اور کہہ (أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا) ’’بیماری دور کردے، اے لوگوں کےرب ! اور شفا دے دے۔ تو ہی شفا دینے والاہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ،ایسی شفا دےکہ بیماری کو بالکل باقی نہ رہے۔‘‘