قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ اللِّبَاسِ (بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

3557 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا قَالَهَا ثَلَاثًا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: جب کوئی نیا لباس پہنے تو کیا کہے ?

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3557.   حضرت ابو امامہ سےروایت ہے انھوں نے فرمایا: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے نیا کپڑا پہنا تو فرمایا : (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي) ’’اللہ کا شکرجس نے مجھے وہ کپڑا پہنایاجس سے میں اپناستر چھپاتا ہوں اور زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں: پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سےیہ ارشاد سنا ہے: جس نے نیا کپڑا پہنا اور کہا: (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي) پھر جو پرانا کپڑا اتارا ہے اسے صدقہ کر دیا وہ زندگی میں اور وفات کے بعد اللہ کے سایہ عاطفت میں اللہ کی حفاظت میں اور اللہ کی پردہ پوشی میں رہے گا۔ نبی ﷺ نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔