قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابُ الرَّجُلِ يُكْنَى قَبْلَ أَنْ يُولَدَ لَهُ)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

3738 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِصُهَيْبٍ مَا لَكَ تَكْتَنِي بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يَحْيَى

سنن ابن ماجہ:

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: اولاد ہونے سےپہلے کنیت رکھنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3738.   حضرت حمزہ بن صہیب ؓ سے روایت ہے، حضرت عمر ؓ نے حضرت صہیب ؓ سے کہا: آپ نے اپنی کنیت ابو یحییٰ کیوں رکھی ہے، حالانکہ آپ کی اولاد نہیں ہے؟ انہوں نے فرمایا: میری کنیت رسول اللہ ﷺ نے ابو یحییٰ رکھی ہے۔