قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدُّعَاءِ (بَابُ الْجَوَامِعِ مِنَ الدُّعَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3846 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: جامع دعائیں

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3846.   ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے انہیں یہ دعا سکھائی: [اللّهم! إني أَسأَلك۔۔۔۔خيرًا] ’’اے اللہ! میں تجھ سے ہر قسم کی خیر مانگتا ہوں، جلدی ملنے والی اور دیر سے ملنے والی (یادنیا کی اور آخرت کی)، وہ بھی جس کا مجھ علم ہے اور وہ بھی جس کا مجھ علم نہیں۔ اے اللہ! میں ہر قسم کےشر سے تیرى پناہ میں آتا ہوں، جلدی آنے والے سے بھی، اور دیر سے آنے والے سے بھی (یا دنیا و آخرت کے شر سے)، جس کا مجھے علم ہے، اس سے بھی اور جس کا مجھے علم نہیں، اس سے بھی۔ یااللہ! میں تجھ سے وہ خیر مانگتا ہوں جو تجھ سے تیرے بندے اور تیرے نبی (محمدﷺ) نے مانگی ہے۔ اور میں اس شر سے تیر پناہ میں آتا ہوں جس شرسے تیرے بندے اور تیرے نبی (محمدﷺ) نے مانگی ہے۔ یا اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور ہر اس قول و عمل (کی توفیق) کا سوال کرتا ہوں جو اس سے قریب کرے۔ اور میں (جہنم کی) آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور ہر اس قول و عمل سے پناہ مانگتا ہوں جو اس (جہنم) سے قریب کرے۔ اور میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تو جو بھی فیصلہ کرے اسے میرے لیے بہتر (یاخیر کا باعث) بنا دے۔‘‘