قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ التَّثَبُّتِ فِي الْفِتْنَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3962.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، أَوْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ - شَكَّ أَبُو بَكْرٍ - عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَأْتِ بِسَيْفِكَ أُحُدًا، فَاضْرِبْهُ حَتَّى يَنْقَطِعَ، ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ، حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ، أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ» ، فَقَدْ وَقَعَتْ وَفَعَلْتُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: قتنے اور آزمائش کے وقت حق پرجمے رہنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3962.   حضرت ابو بردہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بیان کیا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: عنقریب فتنہ، افتراق اور اختلاف (رونما) ہو گا۔ جب یہ صورت حال پیش آئے تو اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر چڑھ جانا اور اسے (پہاڑ کے پتھروں پر) مار کر توڑ دینا۔ پھر گھر میں بیٹھ رہنا حتی کہ تجھ تک کوئی گناہ گار ہاتھ پہنچ جائے یا فیصلہ کر دینے والی موت آ جائے۔ (محمد بن مسلمہ ؓ بیان کرتے ہیں: ) تحقیقی فتنہ واقع ہو چکا اور میں نے وہی کچھ کیا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔