قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الْعُزْلَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3979.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: «هُمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا يَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا» ، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: فَالْزَمْ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِمَامَهُمْ، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ، وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ، حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ، وَأَنْتَ كَذَلِكَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: (فتنوں کے دور میں لوگوں سے ) الگ تھلگ رہنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3979.   حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کچھ لوگ ہوں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو (جہنم کی طرف) بلائیں گے۔ جو شخص ان کی بات مانے گا وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! ہمیں ان کے اوصاف (اور علامات) بتا دیجئے۔ آپ نے فرمایا: وہ ہم ہی میں سے کچھ افراد ہوں گے اور ہماری زبانوں ہی میں بات کریں گے۔ میں نے کہا: اگر مجھے (ان کا) یہ زمانہ ملے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مسلمانوں کی اجتماعیت اور ان کے امام کے ساتھ پیوستہ رہنا۔ اگر ان کی اجتماعیت نہ ہو اور نہ کوئی (متفقہ) امام ہو تو ان سب فرقوں سے الگ رہنا اگرچہ تجھے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتی کہ تجھے اس حال میں موت آ جائے۔