موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ)
حکم : ضعیف
4006 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمَّا وَقَعَ فِيهِمُ النَّقْصُ، كَانَ الرَّجُلُ يَرَى أَخَاهُ عَلَى الذَّنْبِ فَيَنْهَاهُ عَنْهُ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ لَمْ يَمْنَعْهُ مَا رَأَى مِنْهُ، أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَخَلِيطَهُ، فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، وَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ، فَقَالَ: {لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ} حَتَّى بَلَغَ {وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ} [المائدة: 81] ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، وَقَالَ: «لَا حَتَّى تَأْخُذُوا عَلَى يَدَيِ الظَّالِمِ، فَتَأْطِرُوهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا» .
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: نیکی کا حکم دینا اور برائی سےروکنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4006. حضرت ابو عبیدہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل میں نقائص اس طرح پیدا ہوئے کہ آدمی اپنے بھائی کو (ایک بار) کوئی گناہ کرتے دیکھتا توا سے منع کرتا، پھر اگلے دن اسے گناہ کرتے دیکھتا تو اس کی وجہ سے وہ اس کا ہم نوالہ وہم پیالہ اور ہم راز بننے سے نہ رکتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملادیے۔ ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۔ كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ تَرٰی كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔ وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑکی زبانی لعنت کی گئی، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے اور وہ جو برے کام کرتے تھے، ان سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ وہ جو کچھ کرتے تھے یقیناً بہت برا تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں۔ بہت برا ہے جو کچھ انہوں نے اپنے لیے آگے بھیجا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہو، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔ اور اگر وہ اللہ پر، نبی پر اور نبی پر نازل ہونے والی شریعت پر ایمان رکھنے والے ہوتے تو ان (کافروں) سے دوستی نہ کرتے لیکن ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔‘‘ حضرت ابو عبیدہ ؓ نے کہا: رسول اللہﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا: نہیں (تم عذاب سے نہیں بچ سکتے) حتیٰ کہ ظالم کا ہاتھ پکڑکر (اسے ظم سے روک دو اور) اسے حق قبول کرنے پر مجبور کردو۔