موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ} [المائدة: 105])
حکم : ضعيف الإسناد - لعنعنة مكحول
4015 . حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ الرُّعَيْنِيُّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى نَتْرُكُ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: «إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ» ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ظَهَرَ فِي الْأُمَمِ قَبْلَنَا؟ قَالَ: «الْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ، وَالْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ، وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ» قَالَ زَيْدٌ: تَفْسِيرُ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ» ، إِذَا كَانَ الْعِلْمُ فِي الْفُسَّاقِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: فرمانِ باری تعالیٰ ’ مومنو! اپنی جانیں بچاؤ‘ کا مطلب
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4015. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہم (مسلمان) کب نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ بیٹھیں گے؟ آپ نے فرمایا: جب تمہارے اند وہ (خرابیاں) ظاہر ہو جائیں جو تم سے پہلی قوموں میں ظاہر ہوئی تھیں۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسولؐ! ہم سے پہلی امتوں میں کیا ظاہر ہوا تھا؟ آپؐ نے فرمایا: حکومت کم عمر (یا بچگانہ ذہن رکھنے والے) افراد میں اور بے حیائی بڑوں میں (جوان تو بدکاری میں ملوث ہوں گے ہی، بوڑھے بھی باز نہیں آئیں گے) اور علم تمہارے ذلیل لوگوں میں۔ حضرت زید بن یحیٰ نے فرمایا: وہ تمہارے ذلیل لوگوں میں علم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ علم فاسق (اور بدکردار) لوگوں میں ہوگا (جو علم پر عمل نہیں کریں گے)