موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ جَيْشِ الْبَيْدَاءِ)
حکم : صحیح
4063 . حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنْ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ وَيَتَنَادَى أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ فَيُخْسَفُ بِهِمْ فَلَا يَبْقَى مِنْهُمْ إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ فَلَمَّا جَاءَ جَيْشُ الْحَجَّاجِ ظَنَنَّا أَنَّهُمْ هُمْ فَقَالَ رَجُلٌ أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ وَأَنَّ حَفْصَةَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: مقام بیداء کالشکر
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4063. اُم المؤمنین حضرت حفصہ رضی ا للہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے: ’’ایک لشکر بیت اللہ پر حملہ کرنے کےلئے اس کی طرف آئے گا حتی کہ جب وہ بیداء میں پہنچیں گے تو لشکر کا درمیانی حصہ زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ ان کے آگے والے اپنے پیچھے والوں کو آوازیں دیں گے تو انہیں بھی دھنسا دیا جائے گا۔ ان میں سے صرف ایک آدمی بھاگ کر بچے گا جس سے دوسروں کو اس واقعہ کا علم ہو گا۔‘‘ (حضرت عبداللہ بن صفان نے فرمایا! جب حجاج کا لشکر (مکہ پر حملہ کرنے کے لئے) آیا تو ہم نے گمان کیا کہ یہ وہی لوگ ہیں (جن کا ذکر اس حدیث میں ہے) ایک آدمی نے (یہ حدیث سن کر عبداللہ بن صفوان ؓسے) کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے حضرت حفصہ ؓ پر جھوٹ نہیں بولا اور حضرت حفصہ ؓ نے نبی ﷺ کی طرف (اپنے پاس سے بنا کر) جھوٹی بات منسوب نہیں کی۔