قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ الْحِكْمَةِ)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

4171 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي وَأَوْجِزْ قَالَ إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ وَأَجْمِعْ الْيَأْسَ عَمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: دانائی کی بات

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4171.   حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ!مجھے (دین کی باتیں) سکھائیے اور اختصار کیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تو نماز پڑھنے کھڑا ہوتوایسے نماز پڑھ جیسے تودنیا سے رخصت ہونے والا ہے۔ اور کوئی ایسی بات نہ کہہ جس سے (بعد میں) معذرت کرنی پڑے۔ اور لوگوں کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس سے پوری طرح مایوس ہوجا۔‘‘