قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا)

حکم : ضعیف جداً

ترجمة الباب:

419 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً فَقَالَ هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَلَاةً إِلَّا بِهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثِنْتَيْنِ ثِنْتَيْنِ فَقَالَ هَذَا وُضُوءُ الْقَدْرِ مِنْ الْوُضُوءِ وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَقَالَ هَذَا أَسْبَغُ الْوُضُوءِ وَهُوَ وُضُوئِي وَوُضُوءُ خَلِيلِ اللَّهِ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا ثُمَّ قَالَ عِنْدَ فَرَاغِهِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فُتِحَ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

 

تمہید کتاب  (

باب: وضو کے اعضاء ایک بار‘دو باراور تین بار دھونا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

419.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ایک ایک بار وضو کیا اور فرمایا: ’’یہ وہ وضو ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتا۔‘‘ پھر دو، دو بار وضو کیا تو فرمایا: ’’یہ مقام و مرتبہ رکھنے والا ہے۔‘‘ اور تین تین بار وضو کیا تو فرمایا: ’’یہ سب سے کامل وضو ہے، یہ میرا اور ابرہیم خلیل اللہ کا وضو ہے۔ جو شخص اس طرح وضو کرے پھر فارغ ہوکر پڑھے: (أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس میں سے وہ چاہے داخل ہو جائے۔‘‘