موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ)
حکم : صحیح
42 . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي الْمُطَاعِ قَالَ سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ يَقُولُ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَعَظْتَنَا مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ فَاعْهَدْ إِلَيْنَا بِعَهْدٍ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا وَسَتَرَوْنَ مِنْ بَعْدِي اخْتِلَافًا شَدِيدًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَالْأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت
باب: ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کی پیروی کرنا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
42. حضرت عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ایک متاثر کن وعظ فرمایا، جس سے دل (اللہ کی ناراضی اورعذاب سے) خوف زدہ ہوگئے اور آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ نے ہمیں ایسے نصیحت فرمائی ہے جس طرح رخصت ہونے والا نصیحت کیا کرتاہے، آپ ہم سے کوئی عہدو پیمان لے لیجئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور حکم سن کر تعمیل کرو اگرچہ (تمہارا حاکم) کوئی حبشی غلام ہو۔ اور تم میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو اختیار کرنا، اسے ڈاڑھوں سے پکڑ کر رکھنا، (اس پر مضبوطی سے قائم رہنا) اور نئے نئے کاموں سے پرہیز کرنا، کیوں کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘