قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ الثَّنَاءِ الْحَسَنِ)

حکم : حسن صحیح

ترجمۃ الباب:

4224.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ قَالَا حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي ثُبَيْتٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ مَلَأَ اللَّهَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ خَيْرًا وَهُوَ يَسْمَعُ وَأَهْلُ النَّارِ مَنْ مَلَأَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ شَرًّا وَهُوَ يَسْمَعُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اچھی رائے عامہ

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

4224.   حضرت عبداللہ بن عبا س ؓ سے روایت ہے رسو ل اللہ نے فرمایا: ’’جنتی آ دمی وہ ہے جس کے کانو ں کو اللہ لوگو کی اچھی رائے سے بھر دیتا ہے اور وہ سن رہا ہو تا ہے۔ (کہ لوگ میری تعریف کر رہے ہیں) اور جہنمی وہ ہے جس کے کا نو ں کو اللہ کی بری رائے سے بھر دیتا ہے اور وہ سن رہا ہو تا ہے۔ (کہ لو گ مجھے اچھا نہیں سمجھتے)