موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ ذِكْرِ الْبَعْثِ)
حکم : حسن صحیح
4274 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ فَرَفَعَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَدَهُ فَلَطَمَهُ قَالَ تَقُولُ هَذَا وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل
باب: مرنے کے بعد زندہ ھونے (حشر ) کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4274. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ مدینہ کے بازار میں ایک یہودی نے (با ت چیت کے دوران میں) کہہ دیا کہ قسم ہے۔ اس ذات کی جس نے مو سی کو منتخب فرما کر انسانوں پر فضیلت دی ایک انصاری صحابی نے ہاتھ ا ٹھایا اور اس (یہودی کے منہ پر تھپڑ مار دیا اور کہا: تو یہ الفا ظ کہتا ہے۔ حا لانکہ ہمارے اندر رسول اللہ ﷺ موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ بات بتائی گئی۔ توآ پﷺ نے فرمایا: ’’اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ﴾ ’’اور صور میں پھونک ماری جائے گی۔ تو آسمان اور زمین والے سب بے ہوش ہو جا ئیں گے۔ مگر جسے اللہ چاہے پھر اس میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو وہ ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔‘‘ سب سے پہلے سر اٹھانے والا میں ہوں گا۔ اچانک میں دیکھوں گا کہ حضرت موسی ؑ عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کو تھامے کھڑے ہیں۔ معلو م نہیں کہ انھوں نے مجھ سے پہلے (ہوش میں آ کر) سر اٹھا لیا ہو گا یا وہ ان افراد میں شامل ہوں گے جنھیں اللہ نے مستثنی قرار دیا ہے۔ اور جو شخص کہے کہ میں یونس بن متی ؑ سے افضل ہوں اس نے جھوٹ کہا۔‘‘