موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ)
حکم : ضعیف
4332 . حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ أَلَا مُشَمِّرٌ لِلْجَنَّةِ فَإِنَّ الْجَنَّةَ لَا خَطَرَ لَهَا هِيَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نُورٌ يَتَلَأْلَأُ وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ وَقَصْرٌ مَشِيدٌ وَنَهَرٌ مُطَّرِدٌ وَفَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ نَضِيجَةٌ وَزَوْجَةٌ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ وَحُلَلٌ كَثِيرَةٌ فِي مَقَامٍ أَبَدًا فِي حَبْرَةٍ وَنَضْرَةٍ فِي دُورٍ عَالِيَةٍ سَلِيمَةٍ بَهِيَّةٍ قَالُوا نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولُوا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ وَحَضَّ عَلَيْهِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل
باب: جنت کی کیفیات
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4332. حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے۔ کہ ایک د ن رسول للہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا: ’’کیاکوئی ہے جو حصول جنت کے لئے کمر کس لے؟ کیونکہ جنت کی کوئی مثال نہیں۔ رب کعبہ کی قسم! اس میں تو جگمگ کرتا نور ہے۔ لہلاتے ہوئے خوشبودار پودے ہیں مضبوط (اور بلند وبالا) محل ہیں۔ بہتی نہریں ہیں۔ پکے ہوئے بے شمار پھل ہیں حسین وجمیل (خوبصورت) بیوی ہے۔ کپڑوں کےبہت سے جوڑے ہیں۔ جہاں بلند وبالا محفوظ اور دلکش گھروں میں ہمیشہ نعمتوں اور خوشیوں میں رہنا ہے۔‘‘ حاضرین نے کہا: اللہ کے رسولﷺ!اس کے لئے ہم تیاری کریں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’کہو: ان شاء اللہ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے جہاد کا ذکر فرمایا اور اس کی ترغیب دلائی۔