قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يُطْعَمْ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

525 .   حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ أَنْبَأَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَوْلِ الرَّضِيعِ يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مَعْقِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمِصْرِيُّ قَالَ سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَالْمَاءَانِ جَمِيعًا وَاحِدٌ قَالَ لِأَنَّ بَوْلَ الْغُلَامِ مِنْ الْمَاءِ وَالطِّينِ وَبَوْلَ الْجَارِيَةِ مِنْ اللَّحْمِ وَالدَّمِ ثُمَّ قَالَ لِي فَهِمْتَ أَوْ قَالَ لَقِنْتَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ خُلِقَتْ حَوَّاءُ مِنْ ضِلْعِهِ الْقَصِيرِ فَصَارَ بَوْلُ الْغُلَامِ مِنْ الْمَاءِ وَالطِّينِ وَصَارَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ مِنْ اللَّحْمِ وَالدَّمِ قَالَ قَالَ لِي فَهِمْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لِي نَفَعَكَ اللَّهُ بِهِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

 

تمہید کتاب  (

باب: شیر خوار بچے کے پیشاب کا حکم

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

525.   حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے شیر خوار کے پیشاب کے بارے میں فرمایا: ’’لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے۔‘‘ ابو الحسن بن سلمہ نے کہا‘ ہمیں احمد بن موسیٰ نے ان کو ابو الیمان مصری نے بیان کیا کہ میں نے امام شافعی ؒ سے اس حدیث نبویﷺ کے متعلق سوال کیا (جس میں یہ حکم ہے کہ)’’لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور لڑکی کے پیشاب سے کپڑا دھویا جائے۔‘‘ (میں نے پوچھا اس فرق کی کیا وجہ ہے جبکہ) دونوں پیشاب ایک ہی چیز ہیں؟ ا م شافعی ؓ نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہے اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے۔ پھر کہا سمجھ گئے؟ میں نے کہا: جی نہیں (میں نہیں سمجھا) فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب آدم ؑ کو پیدا کیا تو (انہیں مٹی اور پانی سے پیدا کیا اور) حوا علیہاالسلام ان کی چھوٹی پسلی سے پیدا ہوئی۔ گویا لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے وجود میں آیا ہے (جس سے آدم ؑ بنے تھے) اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے (جس سے حوا علیہاالسلام کی تخلیق ہوئی) اب سمجھ گئے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: اللہ تجھے (علم وفہم) سے فائدہ دے۔