قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: کِتَابُ التَّيَمَُ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا اخْتَلَطَ عَلَيْهَا الدَّمُ فَلَمْ تَقِفْ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

626 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي قَالَتْ عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ثُمَّ تُصَلِّي وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل 

  (

باب: اگر استحاضہ کی مریضہ کو خون کی پہچان نہ ہو اور اسے حیض کے ایام کا پتہ نہ چلے تو؟

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

626.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدہ ام حبیبہ بنت جحش ؓ جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ کی اہلیہ تھیں، سات سال استحاضہ کی بیماری میں مبتلا رہیں۔ (آخر کار) انہوں نے نبی ﷺ سے شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ حیض نہیں، یہ تو( بیماری کی) ایک رگ ہے۔ جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب ختم ہو جائے تو غسل کر لے نماز پڑھ۔‘‘ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ وہ اپنی بہن (ام المؤمنین) زینب بنت جحش‬ ؓ ک‬ے ٹب میں (پانی ڈال کر غسل کے لیے) بیٹھ جاتیں حتیٰ کہ خون کی سرخی پانی پر آجاتی۔