موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَسَاجِدِوَالْجَمَاعَاتِ (بَابُ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ)
حکم : صحیح
756 . حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي وَتُصَلِّيَ فِيهِ قَالَ فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ هَذِهِ الْفُحُولِ فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ الْفَحْلُ هُوَ الْحَصِيرُ الَّذِي قَدْ اسْوَدَّ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل
باب: گھروں میں نماز کی جگہ مقرر کر لینا درست ہے
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
756. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے ایک چچا جان نے نبی ﷺ کے لئے کھانا تیار کیا۔ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لا کر کھانا تناول فرمائیں اور نماز بھی ادا فرمائیں، چنانچہ نبی ﷺ تشریف لے آئے۔ گھر میں ایک پرانی چٹائی تھی، انہوں نے اس کے ایک حصے کو صاف کرا کے اس پر پانی چھڑکوا دیا (تاکہ نرم ہو جائے۔) نبی ﷺ نے (کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی اس چٹائی پر) نماز ادا فرمائی اور ہم نے بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی۔ امام ابو عبداللہ ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ (روایت میں مذکور) ’’فحل‘‘ سے مراد ایسی چٹائی ہے جو (کثرت استعمال کی وجہ سے) سیاہ ہو چکی ہو۔