قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِي الْقَدَرِ)

حکم : ضعیف جداً

ترجمة الباب:

87 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الْجَرَّارُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الْكُوفَةَ، أَتَيْنَاهُ فِي نَفَرٍ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ» ، قُلْتُ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ فَقَالَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَتُؤْمِنُ بِالْأَقْدَارِ كُلِّهَا، خيْرِهَا وَشَرِّهَا، حُلْوِهَا وَمُرِّهَا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: تقدیر سے متعلق احکام ومسائل

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

87.   جناب شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت عدی بن حاتم ؓ کوفہ تشریف لائے تو کوفہ کے چند فقہاء کی معیت میں ہم بھی حاضر خدمت ہوئے، ہم نے ان سے عرض کیا: آپ نے جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ سے سنا ہے، ہمیں بھی سنایئے۔ انہوں نے فرمایا: میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’عدی بن حاتم! اسلام قبول کرلے، سلامت رہے گا۔‘‘ میں نے کہا: اسلام کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’یہ کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوال کوئی معبود برحق نہیں اور میں (محمدﷺ) اللہ کا رسول ہوں اور تو ہر قسم کی، اچھی بری ،شیریں و تلخ تقدیر پر ایمان لائے۔‘‘