قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِي الْقَدَرِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

91 .   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَمَلُ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، أَمْ فِي أَمْرٍ مُسْتَقْبَلٍ؟ قَالَ: «بَلْ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: تقدیر سے متعلق احکام ومسائل

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

91.   حضرت سراقہ بن جُعشُم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا عمل ان امور میں شامل ہے جنہیں لکھ کر قلم خشک ہوگیا اور اس کے بارے میں تقدیر کا فیصلہ ہو چکا یا اس کا تعلق آئندہ (فیصلہ ہونے والے معاملات) سے ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’بلکہ وہ ان امور میں شامل ہے جن کو لکھ کر قلم خشک ہوگیا اور اس کا اندازہ ہو چکا اور ہر ایک کے لئے وہ کام آسان ہو جاتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا۔‘‘