قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: شمائل

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ مَعْنَى قَوْلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: 13]، وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ ﷺ رَبَّهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

444.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ "، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} [النجم: 11]، قَالَ: «رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ».

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: آپﷺ کاقول ہے :’’ وہ نو ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں !‘‘ ایک اور قول ہے :’’ میں نے نور دیکھا‘‘

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

444.   حفص بن غیاثؒ نے شیبانیؒ سے حدیث سنائی، انہوں نے زرؒ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی، انہوں نے آیت: ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا۔‘‘ پڑھی، کہا: ’’رسول اللہ ﷺ نے جبریلؑ ﷺ کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔‘‘