قسم الحديث (القائل): قدسی ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ لِأُمَّتِهِ، وَبُكَائِهِ شَفَقَةً عَلَيْهِمْ)

حکم : أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة 

202. حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَلَا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ: {رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي} [إبراهيم: 36] الْآيَةَ، وَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 118]، فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اللهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي»، وَبَكَى، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: «يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، وَرَبُّكَ أَعْلَمُ، فَسَلْهُ مَا يُبْكِيكَ؟» فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ، وَهُوَ أَعْلَمُ، فَقَالَ اللهُ: " يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، فَقُلْ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ، وَلَا نَسُوءُكَ ".

مترجم:

202.

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کہ نبیﷺ نےابراہیم ؑ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان: ’’پروردگار! ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے (ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کر دیں، لہٰذا ان میں سے) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے، اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تو درگزر کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور عیسیٰ ؑ کے قول: ’’اگر تو  انہیں عذاب دے، تو وہ تیرے بندے ہیں! اور اگر تو  انہیں معاف فر دے، تو بلاشبہ تو ہی غالب حکمت والا ہے۔‘‘ کی تلاوت فرمائی اور اپنے ہاتھ اٹھ کر فرمایا: ’’اے اللہ! میری امت! میری امت!‘‘ اور (بے اختیار) روپڑے۔ اللہ تعالیٰ نےحکم دیا:’’ اے  جبریل!محمد ﷺ کے پاس جاؤ، جبکہ تمہارا رب زیادہ جاننےوالا ہے، ان سے پوچھو: کہ آپ کو کیا بات رلا رہی ہے؟‘‘ جبریلؑ  آپ ﷺ کے پاس آئے اور (وجہ)پوچھی، تو رسو ل  اللہﷺ نے جو بات کہی تھی، ان کو بتائی، جبکہ وہ (اللہ اس بات سے) زیادہ اچھی طرح آگاہ ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے جبریل! محمدﷺ کے پاس جاؤ! اور کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے، اور ہم  آپ کو تکلیف نہ ہونے دیں گے۔‘‘