قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ الزَّكَاةِ عَلَى الأَقَارِبِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «لَهُ أَجْرَانِ أَجْرُ القَرَابَةِ وَالصَّدَقَةِ

1462. حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ زَيْنَبُ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقِيلَ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ نَعَمْ ائْذَنُوا لَهَا فَأُذِنَ لَهَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ أَمَرْتَ الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ لِي فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ

مترجم:

ترجمۃ الباب:

اور نبی کریم ﷺ نے ( زینب کے حق میں فرمایا جو عبداللہ بن مسعود کی بیوی تھی ) اس کو دوگنا ثواب ملے گا ‘ ناطہ جوڑنے اور صدقے کا۔اہلحدیث کے نزدیک یہ مطلقاً جائز ہے جب اپنے رشتہ دار محتاج ہوں تو باپ بیٹے کو یا بیٹا باپ کو یا خاوند بیوی کو یا بیوی خاوند کو دے۔بعضوں نے کہا اپنے چھوڑے بچے کو فرض زکوٰۃ دینا بالاجماع درست نہیں اور امام ابوجنیفہ اور امام مالک نے اپنے خاوند کو بھی دینا درست نہیں رکھا اور امام شافعی اور امام احمد نے حدیث کے موافق اس کو جائز رکھا ہے۔مترجم(مولانا وحید الزماں مرحوم) کہتا ہے کہ رشتہ داروں کو اگر وہ محتاج ہوں زکوٰۃ دینے میں دہرا ثواب ملے گا ناجائز ہوتا کیسا ؟(وحیدی)۔رائح کا معنی بے کھٹکے آمدنی کا مال یا بے محنت اور مشقت کی آمدنی کا ذریعہ روح کی روایت خود امام بخاری نے کتاب البیوع میں اور یحییٰ کی کتاب الوصایا میں اور اسماعیل کی کتاب التفسیر میں وصل کی ۔ (وحیدی)

1462.

حضرت ابو سعید خدری ؓ  سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن عیدگاہ تشریف لے گئے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انھیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، فرمایا:’’لوگو! صدقہ کیا کرو۔‘‘ پھر عورتوں کےپاس گئے اورفرمایا:’’اے عورتوں کی جماعت!صدقہ کرو، میں نے تمھیں بکثرت جہنم میں دیکھا ہے۔‘‘ انھوں نے عرض کیا:اللہ کے رسول اللہ ﷺ !ایسا کیوں ہے؟آپ نے فرمایا:’’تم لعن و طعن بہت کرتی ہواور اپنے شوہروں کی نافرمانی کرتی ہو، اے عورتو!میں نے عقل ودین میں تم سے زیادہ ناقص کسی کو نہیں دیکھا جو بڑے زیرک ودانا کی عقل کو مضمحل کردے۔‘‘ پھر آپ ﷺ  واپس ہوئے، جب گھر تشریف لائےتو ابن مسعود ؓ  کی بیوی حضرت زینب ؓ  آئیں اور آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی ، چنانچہ عرض کیا گیا :اللہ کے رسول اللہ ﷺ !زینب آئی ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا:’’ کون سی زینب؟‘‘ عرض کیا گیا : ابن مسعود ؓ  کی بیوی ۔ آپ نے فرمایا:’’اچھا!انھیں اجازت دے دو۔‘‘ چنانچہ اجازت دی گئی۔ اس نے عرض کیا:اللہ کے نبی ﷺ !آپ نے آج صدقہ دینے کا حکم دیا ہے اور میرے پاس کچھ زیور ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اسے خیرات کردوں۔ مگر ابن مسعود ؓ  کا خیال ہے کہ وہ اور اس کے بچے زیادہ مستحق ہیں کہ انھیں صدقہ دوں، تب نبی ﷺ نے فرمایا:’’ابن مسعود نے صحیح کہا ہے، تمھارے خاوند اور تمھارے بچے اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان کو صدقہ دو۔‘‘