قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ فَضْلِ اتِّبَاعِ الجَنَائِزِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ؓ: «إِذَا صَلَّيْتَ فَقَدْ قَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ» وَقَالَ حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ: «مَا عَلِمْنَا عَلَى الجَنَازَةِ إِذْنًا وَلَكِنْ مَنْ صَلَّى، ثُمَّ رَجَعَ فَلَهُ قِيرَاطٌ»

1260. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يَقُولُ: حُدِّثَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يَقُولُ: «مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ» فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْنَا،

مترجم:

ترجمۃ الباب:

‏‏‏‏ اور زید بن ثابتؓ نے فرمایا کہ نماز پڑھ کر تم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ حمید بن ہلال (تابعی) نے فرمایا کہ ہم نماز پڑھ کر اجازت لینا ضروری نہیں سمجھتے۔ جو شخص بھی نماز جنازہ پڑھے اور پھر واپس آئے تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے۔حافظ نے کہا ہے کہ یہ اثر مجھ کو موصولاً نہیں ملا۔امام بخاری کی غرض ان لوگوں کا رد ہے کہ اگر کوئی صرف نمازے جنازہ پڑھ کر گھر لوٹ جانا چاہے تو جنازے کے وارثوں سے ادجازت لے کر جانا چاہیے اور اس بارے میں ایک مرفوع حدیث وارد ہے جو ضعیف ہے۔(وحیدی)

1260.

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،ان سے کہا گیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں :جو شخص جنازے کے ساتھ جائے گا اسے ایک قیراط ثواب ملے گا۔اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:"ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ احادیث بیان کرتے ہیں۔