موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی
سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّیامِ (بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ)
حکم : حسن صحيح
2455. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح، وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ,، قَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ؟<، فَإِذَا قُلْنَا: لَا, قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. زَادَ وَكِيعٌ فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَحَبَسْنَاهُ لَكَ، فَقَالَ: أَدْنِيهِ، قَالَ طَلْحَةُ: فَأَصْبَحَ صَائِمًا وَأَفْطَرَ.
سنن ابو داؤد:
کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب: نفلی روزے میں نیت میں تاخیر مباح ہے
)مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)
2455. ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ جب میرے ہاں تشریف لائے تو دریافت فرماتے: ”کیا تمہارے ہاں کوئی کھانا ہے؟“ جب ہم کہتے کہ نہیں ہے، تو آپ ﷺ فرماتے: ”میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ وکیع نے مزید بیان کیا کہ آپ ﷺ ایک دوسرے موقع پر ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! ہمیں حیس (ایک خاص عربی طعام) کا ہدیہ بھیجا گیا ہے جو ہم نے آپ کے لیے سنبھال رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ادھر لے آؤ۔“ طلحہ نے وضاحت کی کہ آپ نے صبح کو روزے کی نیت کی تھی مگر افطار کر لیا۔