قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْجِهَادِ (بَابُ مَا يُدْعَى عِنْدَ اللِّقَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2632.   حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا, قَالَ: >اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي، وَنَصِيرِي، بِكَ أَحُولُ، وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: جہاد کے مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: دشمن سے آمنا سامنا ہو تو کیا دعا کی جائے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2632.   سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوے کے لیے تشریف لے جاتے تو یوں دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي، وَنَصِيرِي، بِكَ أَحُولُ، وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ» ”اے اللہ! تو میرا بازو اور میرا مددگار ہے، تیری ہی مدد سے میں چلتا پھرتا اور حملہ کرتا ہوں اور لڑائی کرتا ہوں۔“