قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْفَرَائِضِ (بَابٌ فِي الْكَلَالَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2886.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ فَتَوَضَّأَ وَصَبَّهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمَوَارِيثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ

سنن ابو داؤد:

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کلالہ کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2886.   سیدنا جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں بیمار ہو گیا تو نبی کریم ﷺ پیدل چلتے ہوئے میری عیادت کے لیے تشریف لائے جب کہ مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔ میں آپ ﷺ سے بات نہ کر سکا، تو آپ ﷺ نے وضو کیا اور وہ پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے افاقہ ہو گیا۔ پس میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال میں کیسے کروں جبکہ میری وارث میری بہنیں ہیں؟ تو (یہ) آیت میراث نازل ہوئی: (يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ) ”یہ لوگ آپ سے فتوی پوچھتے ہیں کہہ دیجیئے: اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے۔“