قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ (بَابٌ فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنْ الْمَيِّتِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3308.   حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ، فَنَذَرَتْ: إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَنَجَّاهَا اللَّهُ، فَلَمْ تَصُمْ، حَتَّى مَاتَتْ فَجَاءَتِ ابْنَتُهَا -أَوْ أُخْتُهَا- إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا

سنن ابو داؤد:

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: میت کی طرف سے نذر پوری کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3308.   سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت سمندری سفر میں گئی تو اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی۔ چنانچہ اللہ نے اسے نجات دے دی، مگر اس نے روزے نہ رکھے حتیٰ کہ مر گئی۔ پس اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھ لے۔